صحیح بخاری حدیث ۳۲۲۴ - تصویر والے گھر میں فرشتے نہیں آتے

تصویر والے گھر میں فرشتے کیوں داخل نہیں ہوتے؟

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۲۴

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : حَشَوْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِسَادَةً فِيهَا تَمَاثِيلُ كَأَنَّهَا نُمْرُقَةٌ فَجَاءَ ، فَقَامَ بَيْنَ الْبَابَيْنِ وَجَعَلَ يَتَغَيَّرُ وَجْهُهُ ، فَقُلْتُ : مَا لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " مَا بَالُ هَذِهِ الْوِسَادَةِ ، قَالَتْ : وِسَادَةٌ جَعَلْتُهَا لَكَ لِتَضْطَجِعَ عَلَيْهَا ، قَالَ : أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَأَنَّ مَنْ صَنَعَ الصُّورَةَ يُعَذَّبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، يَقُولُ : أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ " .

عائشہ روایت:

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک تکیہ بھرا، جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ وہ ایسا ہو گیا جیسے نقشی تکیہ ہوتا ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو دروازے پر کھڑے ہو گئے اور آپ کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا۔میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم سے کیا غلطی ہوئی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تکیہ کیسا ہے؟ میں نے عرض کیا، یہ تو میں نے آپ کے لیے بنایا ہے تاکہ آپ اس پر ٹیک لگا سکیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا تمہیں نہیں معلوم کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی تصویر ہوتی ہے اور یہ کہ جو شخص بھی تصویر بنائے گا، قیامت کے دن اسے اس پر عذاب دیا جائے گا۔ اس سے کہا جائے گا کہ جس کی مورت تو نے بنائی، اب اسے زندہ بھی کر کے دکھا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۲۲۴ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع جاندار کی تصویر ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک تکیہ تیار کیا جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر آئے تو دروازے پر رک گئے اور چہرے کا رنگ بدل گیا۔ جب عائشہ رضی اللہ عنہا نے وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا کہ جس گھر میں تصویر ہو اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویر بنانے والے کے بارے میں قیامت کے دن عذاب کا ذکر کیا، اور بتایا کہ اس سے کہا جائے گا کہ جس کی صورت بنائی ہے اسے زندہ کرو۔ اس حدیث میں گھر کے ماحول، تصویر والے تکیے، اور فرشتوں کے داخل نہ ہونے کی بات صاف الفاظ میں آئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جاندار کی تصویر گھر میں رکھنے سے فرشتوں کے داخل نہ ہونے کا ذکر آیا ہے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویر والے تکیے پر ناپسندیدگی ظاہر فرمائی۔
  • تصویر بنانے والے کے لیے قیامت کے دن جواب دہی کا بیان ہے۔
  • دینی معاملے میں غلطی ہو تو ادب سے پوچھنا اور سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں