صحیح بخاری حدیث ۳۲۲۷ - جبرائیل علیہ السلام اور گھر میں تصویر یا کتا
جبرائیل علیہ السلام کا بیان: تصویر اور کتا والے گھر کا حکم
صحیح بخاری : ۳۲۲۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۲۷
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : وَعَدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ فَقَالَ : " إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جبرائیل علیہ السلام نے آنے کا وعدہ کیا تھا (لیکن نہیں آئے) پھر جب آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وجہ پوچھی، انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر یا کتا موجود ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۳۲۲۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آنے کا وعدہ کیا تھا، مگر وہ مقرر وقت پر نہیں آئے۔ جب بعد میں آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ پوچھی۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر یا کتا ہو۔ اس روایت میں بات بہت صاف ہے: تصویر اور کتا والے گھر سے متعلق فرشتوں کے داخل نہ ہونے کا ذکر آیا ہے۔ چونکہ یہ جواب جبرائیل علیہ السلام کی طرف سے نقل ہوا ہے، اس لیے گھر کے اندر ان چیزوں کے بارے میں احتیاط کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ حدیث میں جو الفاظ آئے ہیں، توضیح بھی انہی تک رکھی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جبرائیل علیہ السلام نے تصویر یا کتا والے گھر میں داخل نہ ہونے کی وجہ بیان کی۔
- گھر میں موجود چیزیں دینی لحاظ سے اثر رکھ سکتی ہیں۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ پوچھی، پھر جواب سے حکم سمجھ آیا۔
- تصویر اور کتے کے بارے میں حدیث کے الفاظ واضح ہیں۔
