صحیح مسلم حدیث ۵۵۱۷ - تصویر
تصویر والے گھر کی حدیث اور کپڑے کے نقش کا ذکر
صحیح مسلم : ۵۵۱۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۱۷
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ " ، قَالَ بُسْرٌ : ثُمَّ اشْتَكَى زَيْدٌ بَعْدُ فَعُدْنَاهُ ، فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ ، قَالَ : فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ رَبِيبِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْد عَنِ الصُّوَرِ يَوْمَ الْأَوَّلِ ، فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : أَلَمْ تَسْمَعْهُ حِينَ ، قَالَ : إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ .
ابوطلحہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے جس کے اندر تصویر ہو۔“ بسر نے کہا: زید بیمار ہوئے ہم ان کی بیمار پرسی کو گئے ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا ہوا تھا، جس پر تصویریں تھی۔ میں نے عبیداللہ خولانی سے کہا جو ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا کا ربیب تھا خود زید ہی نے ہم سے تصویر کی حدیث بیان کی تھی (اور اب پردہ لٹکایا ہے تصویر کا) عبیداللہ نے کہا: تم نے ان سے نہیں سنا، انہوں نے یہ بھی کہا تھا: مگر جو نقش ہو کپڑے میں۔
صحیح مسلم حدیث ۵۵۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو۔ پھر روایت میں ایک واقعہ آتا ہے کہ زید بیمار ہوئے، لوگ ان کی عیادت کے لیے گئے، تو دروازے پر تصویروں والا پردہ تھا۔ بسر نے عبیداللہ خولانی سے اس پر سوال کیا، تو انہوں نے یاد دلایا کہ حدیث بیان کرتے وقت کپڑے میں نقش کی بات بھی کہی گئی تھی۔ تصویر والی حدیث میں یہاں دو باتیں ساتھ آتی ہیں: فرشتوں کے نہ آنے کا اصل حکم، اور کپڑے پر نقش کے بارے میں راوی کا ذکر۔ اس لیے اس روایت کو احتیاط سے پڑھنا چاہیے، نہ اصل حکم کو بھلانا چاہیے اور نہ مذکورہ استثنا کو نظر انداز کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تصویر والے گھر میں فرشتوں کے داخل نہ ہونے کا ذکر ہے۔
- روایت میں کپڑے کے نقش کا استثنا بھی نقل ہوا ہے۔
- حدیث سمجھتے وقت راوی کے پورے بیان کو دیکھنا چاہیے۔
- عیادت کے واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ حدیث کو یاد دلاتے تھے۔
