صحیح مسلم حدیث ۵۵۲۱ - تصویر والا پردہ اور دنیا کی یاد

تصویر والا پردہ: دل کو دنیا کی یاد سے بچانے والی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۲۱

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ لَنَا سِتْرٌ فِيهِ تِمْثَالُ طَائِرٍ ، وَكَانَ الدَّاخِلُ إِذَا دَخَلَ اسْتَقْبَلَهُ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَوِّلِي هَذَا ، فَإِنِّي كُلَّمَا دَخَلْتُ فَرَأَيْتُهُ ذَكَرْتُ الدُّنْيَا " ، قَالَتْ : وَكَانَتْ لَنَا قَطِيفَةٌ كُنَّا نَقُولُ عَلَمُهَا حَرِيرٌ فَكُنَّا نَلْبَسُهَا .

عائشہ روایت:

ہمارے پاس ایک پردہ تھا اس میں پرندہ کی تصویر بنی تھی۔ جب کوئی اندر آتا تو وہ تصویر اس کے سامنے ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو نکال دے جب میں اندر آ کر اس کو دیکھتا ہوں تو دنیا یاد آ جاتی ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہمارے پاس ایک چادر تھی جس پر ریشمی بیل تھی ہم اس کو پہنا کرتے۔

صحیح مسلم حدیث ۵۵۲۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع تصویر والا پردہ اور دل کی توجہ ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ گھر میں ایک پردہ تھا جس پر پرندے کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ جو شخص اندر آتا، وہ تصویر سامنے آتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے ہٹا دو، کیونکہ جب آپ اسے دیکھتے تو دنیا یاد آ جاتی۔ اس سے صاف سمجھ آتا ہے کہ گھر کی سجاوٹ ایسی نہ ہو جو دل کو غیر ضروری طور پر دنیا کی طرف کھینچے۔ تصویر کی حدیث میں یہاں اصل بات یہ ہے کہ سامنے لٹکی ہوئی چیز انسان کے خیال پر اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی روایت میں ریشمی بیل والی چادر کا ذکر بھی ہے، جسے وہ پہنا کرتے تھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گھر کی سجاوٹ ایسی ہو جو دل کو بے جا مشغول نہ کرے۔
  • سامنے لٹکی تصویریں انسان کی توجہ پر اثر ڈال سکتی ہیں۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نرمی سے پردہ ہٹانے کا حکم دیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں