صحیح مسلم حدیث ۵۵۲۰ - تصویری پردہ
تصویری پردہ اور تکیے بنانے کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۵۲۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۲۰
قَالَ : فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ : إِنَّ هَذَا يُخْبِرُنِي ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَمَاثِيلُ " ، فَهَلْ سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ ذَلِكَ ؟ ، فَقَالَتْ : لَا ، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكُمْ مَا رَأَيْتُهُ ، فَعَلَ رَأَيْتُهُ خَرَجَ فِي غَزَاتِهِ ، فَأَخَذْتُ نَمَطًا ، فَسَتَرْتُهُ عَلَى الْبَابِ ، فَلَمَّا قَدِمَ فَرَأَى النَّمَطَ عَرَفْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ ، فَجَذَبَهُ حَتَّى هَتَكَهُ أَوْ قَطَعَهُ ، وَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنَا أَنْ نَكْسُوَ الْحِجَارَةَ وَالطِّينَ " ، قَالَتْ : فَقَطَعْنَا مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ ، وَحَشَوْتُهُمَا لِيفًا فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيَّ .
زید روایت:
میں یہ سن کر ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ہم سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں تم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا سنا ہے۔ انہوں نے کہا: نہیں۔ میں نے جو دیکھا ہے تجھ سے بیان کرتی ہوں۔ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کو تشریف لے گئے میں نے ایک چادر لی اور اس کو دروازے پر لٹکا دیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ کر آئے اور چادر دیکھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا معلوم ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کھینچا یہاں تک کہ پھاڑ ڈالا اور کاٹ ڈالا اس کو۔ بعد اس کے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم کو حکم نہیں دیا پتھر اور مٹی کو کپڑا پہنانے کا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر ہم نے اس کو کاٹ کر دو تکیے بنا ڈالے اور ان کے اندر کھجور کی چھال بھری۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عیب نہیں کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۵۲۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنا دیکھا ہوا واقعہ بیان کرتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس آئے تو دروازے پر لٹکی ہوئی چادر دیکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ناگواری ظاہر ہوئی، پھر آپ نے اسے کھینچ کر پھاڑ دیا اور فرمایا کہ اللہ نے ہمیں پتھر اور مٹی کو کپڑا پہنانے کا حکم نہیں دیا۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس چادر کو کاٹ کر دو تکیے بنا دیے اور ان میں کھجور کی چھال بھری۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عیب نہیں کیا۔ تصویری پردہ کی حدیث میں اصل فرق یہی سامنے آتا ہے کہ لٹکائی ہوئی چادر پر ناگواری ہوئی، مگر اسے تکیوں کی صورت میں بدلنے پر اعتراض نہیں کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تصویروں والی چادر دروازے پر لٹکائی گئی تھی۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر ناگواری ظاہر فرمائی۔
- چادر کو تکیوں میں بدلنے پر عیب نہیں کیا گیا۔
- حدیث میں استعمال کی صورت بدلنے کا واقعہ صاف طور پر موجود ہے۔
