صحیح مسلم حدیث ۵۵۲۶ - تصویردار پردہ ہاتھ سے پھاڑنا

تصویردار پردہ ہاتھ سے پھاڑنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۲۶

وحدثني حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : ثُمَّ أَهْوَى إِلَى الْقِرَامِ فَهَتَكَهُ بِيَدِهِ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جھکے پردے کی طرف اور اس کو اپنے ہاتھ سے پھاڑ ڈالا۔

صحیح مسلم حدیث ۵۵۲۶ کا خلاصہ

یہ روایت اسی مضمون کو مزید صاف لفظوں میں بیان کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویردار پردے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اپنے ہاتھ سے اسے پھاڑ ڈالا۔ اس میں اصل پیغام تصویر والا پردہ اور تصویر سازی کی ناپسندیدگی ہے۔ جب کوئی چیز گھر میں سامنے لگی ہو اور اس پر صورت بنی ہو تو وہ صرف کپڑے کا ٹکڑا نہیں رہتی، بلکہ گھر کے ماحول پر اثر ڈالتی ہے۔ حدیث میں چہرے کے بدلنے اور پردے کو پھاڑنے کا ذکر اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ معاملہ معمولی نہیں تھا۔ پھر بھی وضاحت انہی الفاظ تک رہنی چاہیے جو روایت میں آئے ہیں، یعنی تصویردار پردے کو ہٹانا اور پھاڑنا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تصویردار پردہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہیں آیا۔
  • آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردے کو اپنے ہاتھ سے پھاڑا۔
  • حدیث کی بات کو اسی حد تک بیان کرنا چاہیے جتنی روایت میں آئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں