صحیح مسلم حدیث ۵۵۲۸ - تصویردار پردہ اور تکیہ بنانا
تصویردار پردہ اور تکیہ بنانے کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۵۲۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۲۸
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سَتَرْتُ سَهْوَةً لِي بِقِرَامٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ ، فَلَمَّا رَآهُ هَتَكَهُ وَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ ، وَقَالَ يَا عَائِشَةُ : " أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقَطَعْنَاهُ ، فَجَعَلْنَا مِنْهُ وِسَادَةً أَوْ وِسَادَتَيْنِ .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میں نے ایک طاق یا مچان کو اپنے ایک پردے سے ڈھانکا تھا جس میں تصویریں تھیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو اس کو پھاڑ ڈالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! سب سے زیادہ سخت عذاب قیامت میں ان لوگوں کو ہو گا جو اللہ کی مخلوق کی شکل بناتے ہیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا میں نے اس کو کاٹ کر ایک تکیہ بنایا یا دو تکیے بنائے۔
صحیح مسلم حدیث ۵۵۲۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے ایک طاق یا مچان کو پردے سے ڈھانکا تھا، جس میں تصویریں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو پھاڑ دیا، چہرے کا رنگ بدل گیا، اور فرمایا کہ قیامت کے دن سخت عذاب ان لوگوں کو ہو گا جو اللہ کی مخلوق کی شکل بناتے ہیں۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کپڑے کو کاٹ کر ایک یا دو تکیے بنا لیے۔ اس روایت میں تصویر والا پردہ، گھر کی جگہ پر لٹکانا، اور بعد میں کپڑے کے استعمال کا ذکر ایک ساتھ آتا ہے۔ مگر اصل وعید تصویر بنانے والوں کے لیے ہے، اس لیے بات کو اسی حد میں رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تصویردار پردہ سامنے لٹکانا ناپسند کیا گیا۔
- اللہ کی مخلوق کی شکل بنانے والوں کے لیے سخت وعید آئی ہے۔
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پردہ کاٹ کر تکیہ بنا لیا۔
