صحیح مسلم حدیث ۵۵۲۹ - نماز کے سامنے تصویری کپڑا

نماز کے سامنے تصویر والا کپڑا ہٹانے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۲۹

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، قال : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهُ كَانَ لَهَا ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ مَمْدُودٌ إِلَى سَهْوَةٍ ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " أَخِّرِيهِ عَنِّي " ، قَالَتْ : فَأَخَّرْتُهُ فَجَعَلْتُهُ وَسَائِدَ .

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں وہ ایک طاق پر لٹکا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ادھر نماز پڑھتے تھے تو فرمایا: ”اس کو ہٹا دے میرے سامنے سے“۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اس کو ہٹا کر اس کے تکیے بنا ڈالے۔

صحیح مسلم حدیث ۵۵۲۹ کا خلاصہ

اس روایت میں تصویر والے کپڑے کا تعلق نماز کی جگہ سے بھی سامنے آتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں اور وہ طاق پر لٹکا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے میرے سامنے سے ہٹا دو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے ہٹا دیا اور اس کے تکیے بنا ڈالے۔ اس حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ نماز میں سامنے ایسی چیز نہ ہو جو توجہ کو متاثر کرے۔ تصویر والا پردہ حدیث یہاں عبادت کے سکون اور سامنے کے ماحول سے جڑی ہوئی ہے، نہ کہ کسی لمبی بحث سے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز کے سامنے توجہ بٹانے والی چیز ہٹانی چاہیے۔
  • تصویردار کپڑا سامنے ہو تو اسے پیچھے کیا گیا۔
  • سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کپڑے کو تکیوں میں بدل دیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں