صحیح مسلم حدیث ۵۵۳۲ - تصویردار پردہ اتار کر تکیے بنانا
تصویردار پردہ اتار کر دو تکیے بنانے کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۵۳۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۳۲
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّهَا نَصَبَتْ سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَعَهُ ، قَالَتْ : فَقَطَعْتُهُ وِسَادَتَيْنِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ فِي الْمَجْلِسِ حِينَئِذٍ يُقَالُ لَهُ رَبِيعَةُ بْنُ عَطَاءٍ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ : أَفَمَا سَمِعْتَ أَبَا مُحَمَّدٍ يَذْكُرُ أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَفِقُ عَلَيْهِمَا ، قَالَ ابْنُ الْقَاسِمِ : لَا ، قَالَ : لَكِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ يُرِيدُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ .
عائشہ روایت:
انہوں نے ایک پردہ لٹکایا جس میں تصویریں تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اس پردے کو اتار ڈالا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اس کے دو تکیے بنا ڈالے۔ ایک شخص بولا مجلس میں اس وقت جس کا نام ربیعہ بن عطاء تھا تم نے نہیں سنا ابومحمد سے، وہ کہتے تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان تکیوں پر آرام کرتے تھے۔ ابن قاسم نے کہا: نہیں، لیکن میں نے قاسم بن محمد سے سنا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۵۳۲ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایک پردے کا ذکر ہے جس میں تصویریں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے وہ پردہ اتار دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے اسے کاٹ کر دو تکیے بنا لیے۔ روایت کے آخر میں مجلس میں ایک شخص کی گفتگو بھی آئی ہے کہ کیا آپ نے ابو محمد سے یہ بات نہیں سنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان تکیوں پر آرام کرتے تھے۔ ابن قاسم نے جواب دیا کہ نہیں، لیکن میں نے قاسم بن محمد سے سنا۔ اس حدیث سے ہمیں تصویر والا پردہ ہٹانے کا عمل ملتا ہے، اور روایت نقل کرتے وقت احتیاط کا انداز بھی نظر آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تصویردار پردہ اتار دیا گیا۔
- کپڑے کو دو تکیوں میں بدلنے کا ذکر روایت میں آیا ہے۔
- راوی نے جو بات خود نہ سنی، اس کی صاف وضاحت کی۔
