صحیح مسلم حدیث ۵۵۳۱ - تصویر والا پردہ سرکانا

تصویر والا پردہ سرکانے اور تکیے بنانے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۳۱

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ وَقَدْ سَتَرْتُ نَمَطًا فِيهِ تَصَاوِيرُ ، فَنَحَّاهُ فَاتَّخَذْتُ مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں نے ایک پردہ لٹکایا تھا جس میں تصویریں تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سرکا دیا۔ میں نے اس کے دو تکیے بنا ڈالے۔

صحیح مسلم حدیث ۵۵۳۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، جبکہ انہوں نے ایک پردہ لٹکایا ہوا تھا جس میں تصویریں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سرکا دیا، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی کپڑے کے دو تکیے بنا لیے۔ اس روایت کا انداز مختصر ہے، مگر بات واضح ہے: تصویردار پردہ سامنے لٹکا رہنا پسند نہیں کیا گیا۔ تصویر والا پردہ حدیث میں یہ پہلو بار بار آتا ہے کہ کپڑا اگر گھر کی نمایاں جگہ پر ہو تو اسے ہٹایا گیا۔ اس کے بعد کپڑے کے تکیے بننے کا ذکر بھی متن میں موجود ہے، اس لیے اسی کو بیان کرنا مناسب ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تصویردار پردہ لٹکا ہوا تھا تو اسے سرکا دیا گیا۔
  • سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی کپڑے سے دو تکیے بنا لیے۔
  • حدیث میں گھر کے نمایاں پردوں کے بارے میں عملی رہنمائی ملتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں