صحیح مسلم حدیث ۵۵۴۰ - جاندار اور بے جان چیز کی تصویر

جاندار تصویر سے بچنا: درخت اور بے جان چیز کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۴۰

قَالَ مُسْلِم : قَرَأْتُ عَلَى نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، قال : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : إِنِّي رَجُلٌ أُصَوِّرُ هَذِهِ الصُّوَرَ فَأَفْتِنِي فِيهَا ؟ فَقَالَ لَهُ : ادْنُ مِنِّي فَدَنَا مِنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : ادْنُ مِنِّي فَدَنَا حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ ، قَالَ : أُنَبِّئُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ يَجْعَلُ لَهُ بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا نَفْسًا فَتُعَذِّبُهُ فِي جَهَنَّمَ " ، وقَالَ : إِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَاصْنَعِ الشَّجَرَ ، وَمَا لَا نَفْسَ لَهُ فَأَقَرَّ بِهِ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ .

سعید بن ابی الحسن روایت:

ایک شخص عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں تصویر بنانے والا ہوں تو اس کا کیا حکم ہے بیان کیجئیے مجھ سے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میرے پاس آ۔ وہ گیا، پھر انہوں نے کہا: پاس آ۔وہ اور پاس گیا یہاں تک کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا اور کہا: میں تجھ سے کہتا ہوں وہ جو میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”ہر ایک تصویر بنانے والا جہنم میں جائے گا اور ہر ایک تصویر کے بدل ایک شخص جاندار بنایا جائے گا جو تکلیف دے گا اس کو جہنم میں۔“ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر تو نے ایسا ہی بنانا ہے تو درخت کی یا کسی اور بےجان چیز کی تصویر بنا۔

صحیح مسلم حدیث ۵۵۴۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا کہ میں تصویریں بناتا ہوں، مجھے اس کا حکم بتائیے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے قریب بلایا، ہاتھ سر پر رکھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی بات سنائی کہ ہر تصویر بنانے والا جہنم میں جائے گا، اور ہر تصویر کے بدلے ایک جاندار بنایا جائے گا جو اسے جہنم میں تکلیف دے گا۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اگر بنانا ہی ہے تو درخت یا کسی ایسی چیز کی تصویر بناؤ جس میں جان نہ ہو۔ یہ تصویر بنانے کی حدیث خاص طور پر جاندار اور بے جان چیز کے فرق کو متن ہی کے اندر واضح کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سائل نے تصویر بنانے کے حکم کے بارے میں پوچھا۔
  • ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنی ہوئی وعید بیان کی۔
  • درخت یا بے جان چیز کی تصویر بنانے کی رہنمائی متن میں آئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں