صحیح مسلم حدیث ۵۵۴۱ - تصویر بنانے کی سخت تنبیہ
تصویر بنانے کی حدیث: قیامت کے دن جان ڈالنے کا مطالبہ
صحیح مسلم : ۵۵۴۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۴۱
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَجَعَلَ يُفْتِي ، لا يَقُولُ : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَأَلَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنِّي رَجُلٌ أُصَوِّرُ هَذِهِ الصُّوَرَ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : ادْنُهْ فَدَنَا الرَّجُلُ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ "
نضر بن انس بن مالک روایت:
میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ فتویٰ دیتے تھے اور حدیث نہیں بیان کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک شخص نے پوچھا: میں مصور ہوں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میرے پاس آ، وہ پاس آیا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو شخص دنیا میں تصویر بنائے اس کو قیامت میں تکلیف دی جائے گی اس میں جان ڈالنے کی اور وہ جان نہ ڈال سکے گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۵۴۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے بتایا کہ وہ تصویریں بناتا ہے۔ جواب میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنی رائے کے بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنایا۔ حدیث کا صاف مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تصویر بنانے والے کو قیامت کے دن کہا جائے گا کہ اس میں جان ڈالو، لیکن وہ جان نہیں ڈال سکے گا۔ اس لیے تصویر بنانے کی حدیث ہمیں یہ بات سمجھاتی ہے کہ ایسی تصویر سازی معمولی بات نہیں جس میں جاندار کی صورت بنائی جائے۔ ایک مسلمان کو اپنے کام، ہنر اور کمائی کے بارے میں احتیاط کرنی چاہیے۔ اگر کوئی مصور ہو تو اسے اس حدیث کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اپنے لیے محفوظ راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تصویر بنانے والے کو اپنے کام کے بارے میں اللہ کے سامنے جواب دہی یاد رکھنی چاہیے۔
- جاندار کی تصویر بنانا اس حدیث میں سخت تنبیہ کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔
- دینی مسئلہ پوچھنے پر صحابی نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنایا۔
- قیامت کے دن انسان کے دنیاوی اعمال کا حساب ہوگا۔
