صحیح مسلم حدیث ۵۵۴۶ - کتے یا گھنٹی والے قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں رہتے
سفر میں گھنٹی اور کتا: فرشتوں کے ساتھ نہ رہنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۵۴۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۴۶
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ ، وَلَا جَرَسٌ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے ساتھ نہیں رہتے ان مسافروں کے جن کے ساتھ گھنٹا ہو یا کتا ہو۔“ (یعنی رحمت کے فرشتے کیونکہ گھنٹے کی آواز مکروہ ہے اور یہ نہی تنزیہی ہے)۔
صحیح مسلم حدیث ۵۵۴۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتے ایسے مسافروں کے ساتھ نہیں رہتے جن کے ساتھ کتا یا گھنٹی ہو۔ سفر کے آداب کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ مسلمان کا سفر بھی دینی احتیاط سے خالی نہیں ہوتا۔ یہاں خاص طور پر قافلے، رفقہ، کتے اور گھنٹی کا ذکر آیا ہے۔ متن میں یہ بات بھی موجود ہے کہ مراد رحمت کے فرشتے ہیں، اور گھنٹی کی آواز کو ناپسندیدہ بتایا گیا ہے۔ اس لیے اس روایت کو اسی حد میں سمجھنا چاہیے کہ سفر میں ایسی چیزوں سے بچنا بہتر ہے جن کے بارے میں نبوی تنبیہ آئی ہو۔ یہ حدیث ہمیں اپنے سفر کے سامان اور عادتوں پر غور کرنے کا موقع دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں بھی دینی آداب کا خیال رکھا جاتا ہے۔
- حدیث میں کتے یا گھنٹی والے قافلے کے ساتھ فرشتوں کے نہ رہنے کا ذکر ہے۔
- گھنٹی کی آواز کے بارے میں ناپسندیدگی بیان ہوئی ہے۔
- مسلمان کو سفر کے سامان میں بھی احتیاط اختیار کرنی چاہیے۔
