صحیح مسلم حدیث ۵۸۹ - ہر نماز کے وقت مسواک کی فضیلت

مسواک کی فضیلت: ہر نماز سے پہلے پاکیزگی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۸۹

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ ، وَفِي حَدِيثِ زُهَيْر : عَلَى أُمَّتِي ، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مسلمانوں پر شاق (یعنی دشوار) نہ ہوتا“ اور زہیر کی روایت میں یوں ہے کہ ”اگر میری امت پر شاق نہ ہوتا تو میں ان کو حکم کرتا ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا۔“

صحیح مسلم حدیث ۵۸۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں مسواک کی فضیلت بہت صاف الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مسلمانوں پر مشقت نہ ہوتی، اور ایک روایت کے لفظ کے مطابق اگر میری امت پر دشواری نہ ہوتی، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسواک نماز کے ساتھ خاص مناسبت رکھتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی آسانی کا خیال رکھا، اسی لیے اسے لازمی حکم کے طور پر بیان نہیں فرمایا، مگر اس کی اہمیت ضرور بتا دی۔ جو شخص نماز سے پہلے منہ کی صفائی کا اہتمام کرتا ہے، وہ عبادت کے لیے بہتر تیاری کرتا ہے۔ حدیث کا اصل پیغام یہی ہے کہ مسواک پسندیدہ عمل ہے اور نماز کے وقت اس کی خاص ترغیب ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مسواک نماز سے پہلے پاکیزگی کا پسندیدہ عمل ہے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی آسانی کا خیال فرمایا۔
  • ہر نماز کے وقت مسواک کی ترغیب حدیث سے ثابت ہے۔
  • عبادت سے پہلے منہ کی صفائی کا اہتمام اچھا عمل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں