صحیح مسلم حدیث ۶۰۰۶ - انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
صحیح مسلم : ۶۰۰۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۰۰۶
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَي ، قَالَ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَحْسَنَ النَّاسِ ، وَكَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ ، وَكَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ ، وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَانْطَلَقَ نَاسٌ قِبَلَ الصَّوْتِ ، فَتَلَقَّاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا ، وَقَدْ سَبَقَهُمْ إِلَى الصَّوْتِ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ ، عُرْيٍ فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ ، وَهُوَ يَقُولُ : لَمْ تُرَاعُوا ، لَمْ تُرَاعُوا ، قَالَ : وَجَدْنَاهُ بَحْرًا ، أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ ، قَالَ : وَكَانَ فَرَسًا يُبَطَّأُ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ خوبصورت تھے اور سب سے زیادہ سخی تھے اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات مدینہ والوں کو خوف ہوا (کسی دشمن کے آنے کا) جدھر سے آواز آ رہی تھی ادھر لوگ چلے، راہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹتے ہوئے ملے (آپ لوگوں سے پہلے تنہا خبر لینے کو تشریف لے گئے تھے) اور سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تھے آواز کی طرف سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر جو ننگی پیٹھ تھا اور آپ کے گلے میں تلوار تھی اور فرماتے تھے کچھ ڈر نہیں کچھ ڈر نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ گھوڑا تو دریا ہے اور پہلے وہ گھوڑا آہستہ چلتا تھا (یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا کہ وہ تیز ہو گیا)۔
