صحیح مسلم حدیث ۶۰۳ - مونچھیں کترو اور داڑھی بڑھاؤ
مونچھیں کترنے اور داڑھی لٹکانے کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۰۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۰۳
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَى الْحُرَقَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جُزُّوا الشَّوَارِبَ ، وَأَرْخُوا اللِّحَى ، خَالِفُوا الْمَجُوسَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کترو مونچھوں کو اور لٹکاؤ داڑھیوں کو اور خلاف کرو فارسیوں کا“ (یعنی آتش پرستوں کا)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مونچھوں کو کترو، داڑھیوں کو لٹکاؤ اور فارسیوں کی مخالفت کرو۔ روایت کا اصل موضوع چہرے کی فطری اور دینی صفائی ہے، خاص طور پر مونچھ اور داڑھی۔ “داڑھی چھوڑنے کی حدیث” اور “مونچھیں کترنے کی حدیث” کے طور پر یہ روایت بہت تلاش کی جاتی ہے۔ حدیث میں داڑھی کے لیے “لٹکاؤ” کا مفہوم آیا ہے، یعنی اسے بڑھنے دیا جائے، جبکہ مونچھ کے بارے میں کترنے کا حکم ہے۔ اس روایت میں ایک الگ پہچان کا ذکر بھی ہے، مگر ہمیں اسی بات پر رکنا چاہیے جو متن میں موجود ہے: مونچھ کم ہو اور داڑھی باقی رکھی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مونچھوں کو کترنا اس روایت میں نبی صلى الله عليه وسلم کا حکم ہے۔
- داڑھی کو بڑھنے دینا اس حدیث کے اصل الفاظ سے ثابت ہے۔
- ظاہری آداب میں بھی مسلمان کو نبی صلى الله عليه وسلم کی بات کو سامنے رکھنا چاہیے۔
