صحیح مسلم حدیث ۶۲۵ - پیشاب کے معاملے میں آسانی
پیشاب میں اعتدال کی حدیث: صفائی بھی، غیر ضروری سختی بھی نہیں
صحیح مسلم : ۶۲۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۵
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : " كَانَ أَبُو مُوسَى ، يُشَدِّدُ فِي الْبَوْلِ ، وَيَبُولُ فِي قَارُورَةٍ ، وَيَقُولُ : إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، كَانَ إِذَا أَصَابَ جِلْدَ أَحَدِهِمْ بَوْلٌ ، قَرَضَهُ بِالْمَقَارِيضِ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : لَوَدِدْتُ أَنَّ صَاحِبَكُمْ ، لَا يُشَدِّدُ هَذَا التَّشْدِيدَ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَمَاشَى ، فَأَتَى سُبَاطَةً خَلْفَ حَائِطٍ ، فَقَامَ كَمَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ ، فَبَالَ ، فَانْتَبَذْتُ مِنْهُ ، فَأَشَارَ إِلَيَّ ، فَجِئْتُ فَقُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ ، حَتَّى فَرَغَ " .
ابووائل روایت:
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نہایت سختی کرتے تھے پیشاب میں، وہ پیشاب کیا کرتے تھے ایک شیشی میں اور کہتے تھے کہ بنی اسرائیل میں جب کسی کے بدن کو پیشاب لگ جاتا تو وہ کھال کترتا قینچیوں سے۔ سیدنا خذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ایسی سختی نہ کرتے تو بہتر تھا۔میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے گھورے پر آئے دیوار کے پیچھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے جس طرح سے تم میں کوئی ہوتا ہے پھر پیشاب کیا میں دور ہٹا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا: ”پاس آ“، یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایڑیوں کے پاس کھڑا رہا۔ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب سے فارغ نہ ہوئے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۲۵ کا خلاصہ
یہ حدیث پیشاب کے معاملے میں اعتدال کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔ سیدنا ابووائل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ پیشاب کے بارے میں بہت سختی کرتے تھے، یہاں تک کہ شیشی میں پیشاب کرتے اور بنی اسرائیل کا ذکر کرتے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ایسی سختی نہ کریں۔ پھر انہوں نے اپنا مشاہدہ بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے گھورے پر دیوار کے پیچھے کھڑے ہوئے، پیشاب کیا، اور حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا کہ پاس آ جائیں۔ اس روایت میں اصل بات یہ ہے کہ طہارت کا خیال رکھا جائے، مگر ایسی سختی نہ کی جائے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان شدہ عمل سے بڑھ جائے۔ حدیث کا انداز بہت عملی ہے، اس میں صفائی بھی ہے اور غیر ضروری تنگی سے بچنے کا اشارہ بھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- طہارت میں صفائی ضروری ہے، مگر غیر ضروری سختی سے بچنا بہتر ہے۔
- صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے دیکھے ہوئے عمل کو دلیل کے طور پر بیان کیا۔
- حاجت کے وقت پردے، مقام اور حالات کا لحاظ رکھا گیا۔
