صحیح مسلم حدیث ۶۳ - سماعِ حدیث کی تحقیق

سماعِ حدیث کی تحقیق: کس سے سنا، یہ جاننا ضروری ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳

حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو دَاوُدَ الأَعْمَى فَجَعَلَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ ، قَالَ : وَحَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِقَتَادَةَ ، فَقَالَ : كَذَبَ مَا سَمِعَ مِنْهُمْ إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ سَائِلًا ، يَتَكَفَّفُ النَّاسَ زَمَنَ طَاعُونِ الْجَارِفِ ،

ہمام روایت:

ابوداؤد نابینا (نفیع بن حارث) ہمارے پاس آیا اور کہنے لگا: حدیث بیان کی مجھ سے براء بن عازب نے اور حدیث بیان کی مجھ زید بن ارقم نے، ہم نے یہ قتادہ سے ذکر کیا انہوں نے کہا جھوٹا ہے اس نے نہیں سنا ان سے (براء اور زید سے)۔ وہ تو ایک منگتا تھا، لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا تھا سخت وبا کے زمانے میں۔

صحیح مسلم حدیث ۶۳ کا خلاصہ

اس روایت میں ابوداؤد نابینا نے دعویٰ کیا کہ اسے براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہم سے حدیث پہنچی ہے۔ جب یہ بات قتادہ کے سامنے رکھی گئی تو انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ اس نے ان سے نہیں سنا۔ متن میں وجہ یہ بیان ہوئی کہ وہ وبا کے زمانے میں لوگوں سے مانگنے والا شخص تھا۔ یہاں اصل سبق یہ ہے کہ حدیث کی سند میں صرف نام لینا کافی نہیں، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ واقعی ملاقات اور سماع ثابت ہے یا نہیں۔ سماع حدیث، راوی کی تحقیق، حدیث کی سند اور جھوٹی نسبت جیسے موضوعات اسی روایت سے نکلتے ہیں۔ دینی بات میں احتیاط اس لیے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط بات منسوب نہ ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث میں یہ جانچ ضروری ہے کہ راوی نے واقعی کس سے سنا ہے۔
  • صرف بڑے ناموں کی نسبت کر دینا روایت کے صحیح ہونے کے لیے کافی نہیں۔
  • اہل علم غلط دعوے کی نشاندہی کرتے تھے تاکہ روایت محفوظ رہے۔
  • حدیث قبول کرنے میں سند کی تحقیق ایک بنیادی عمل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں