صحیح مسلم حدیث ۶۳۱۵ - بازار اور جبریل علیہ السلام

بازار میں احتیاط اور جبریل علیہ السلام کے آنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳۱۵

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْقَيْسِيُّ كلاهما ، عَنْ الْمُعْتَمِرِ ، قَالَ ابْنُ حَمَّادٍ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : " لَا تَكُونَنَّ إِنِ اسْتَطَعْتَ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ السُّوقَ ، وَلَا آخِرَ مَنْ يَخْرُجُ مِنْهَا ، فَإِنَّهَا مَعْرَكَةُ الشَّيْطَانِ وَبِهَا يَنْصِبُ رَايَتَهُ ، قَالَ : وَأُنْبِئْتُ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام ، أَتَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعِنْدَهُ أُمُّ سَلَمَةَ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَتَحَدَّثُ ثُمَّ قَامَ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّ سَلَمَةَ ، مَنْ هَذَا ، أَوْ كَمَا قَالَ ؟ قَالَتْ : هَذَا دِحْيَةُ ، قَالَ : فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : ايْمُ اللَّهِ مَا حَسِبْتُهُ إِلَّا إِيَّاهُ ، حَتَّى سَمِعْتُ خُطْبَةَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُ خَبَرَنَا ، أَوْ كَمَا قَالَ ، قَالَ : فَقُلْتُ لِأَبِي عُثْمَانَ : مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا ؟ قَالَ : مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ " .

سلمان روایت:

سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے تھے تجھ سے اگر ہو سکے تو سب سے پہلے بازار میں مت جا اور نہ سب کے بعد وہاں سے نکل کیونکہ بازار معرکہ ہے شیطان کا اور وہیں اس کا جھنڈا کھڑا ہوتا ہے، انہوں نے کہا: سیدنا جبرئیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بی بی ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں۔جبرئیل علیہ السلام باتیں کرنے لگے پھر کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”یہ کون شخص تھے؟“ انہوں نے کہا دحیہ کلبی تھے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تو ان کو دحیہ کلبی سمجھے یہاں تک کہ میں نے خطبہ سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری خبر بیان کرتے تھے۔

صحیح مسلم حدیث ۶۳۱۵ کا خلاصہ

اس روایت میں دو باتیں آئی ہیں۔ پہلے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے بازار کے بارے میں نصیحت کی کہ اگر ہو سکے تو سب سے پہلے بازار میں داخل نہ ہو اور نہ سب سے آخر میں نکلنے والا بن، کیونکہ بازار کو شیطان کا معرکہ کہا گیا ہے۔ اس کے بعد روایت میں یہ واقعہ آیا کہ جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے، اس وقت ام سلمہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں۔ جبریل علیہ السلام گفتگو کے بعد اٹھ گئے تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ یہ کون تھے؟ انہوں نے دحیہ کلبی سمجھا۔ بعد میں خطبے سے بات واضح ہوئی۔ اس حدیث کا اصل موضوع بازار میں احتیاط، جبریل علیہ السلام کا آنا، اور ظاہری شکل پر انسان کا گمان ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بازار کے معاملے میں بے ضرورت وقت لگانے سے بچنے کی نصیحت آئی ہے۔
  • ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آنے والے کو دحیہ کلبی سمجھا۔
  • جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس آتے تھے اور گفتگو کرتے تھے۔
  • بعض باتیں بعد میں واضح ہوتی ہیں، اس لیے جلدی حکم نہیں لگانا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں