صحیح مسلم حدیث ۶۳۲ - میں نے انہیں پاکی میں پہنا
موزوں پر مسح کی شرط: طہارت میں پہنے ہوئے موزے
صحیح مسلم : ۶۳۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳۲
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ وَضَّأَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، فَقَالَ لَهُ : فَقَالَ : " إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ " .
مغیرہ روایت:
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور دونوں موزوں پر مسح کیا۔ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ان کو طہارت میں پہنا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۳۲ کا خلاصہ
یہ روایت مختصر ہے مگر موزوں پر مسح کے مسئلے میں بہت اہم ہے۔ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور دونوں موزوں پر مسح کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے انہیں طہارت کی حالت میں پہنا ہے۔ اس حدیث کا اصل پیغام بہت واضح ہے: موزوں پر مسح کا تعلق اس حالت سے ہے کہ وہ پاکی میں پہنے گئے ہوں۔ یہاں لمبی تفصیل نہیں، نہ سفر کا مکمل واقعہ بیان ہے، نہ لباس کی تفصیل؛ صرف وضو، مسح، اور طہارت میں موزے پہننے کی بات ہے۔ اسی وجہ سے یہ حدیث تلاش کرنے والے عموماً “طہارت پر موزے پہننا” یا “موزوں پر مسح کی شرط” جیسے الفاظ لکھتے ہیں۔ روایت کو اسی حد تک سمجھنا درست ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کے بعد موزوں پر مسح کیا اور اس کی وجہ بیان فرمائی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں موزوں پر مسح کے ساتھ طہارت میں پہننے کی بات آئی ہے۔
- مسح کا عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو میں بیان ہوا ہے۔
- حدیث مختصر ہے مگر مسئلے کا بنیادی نکتہ صاف کر دیتی ہے۔
