صحیح مسلم حدیث ۶۳۳۲ - ستر سے زیادہ سورتیں اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ

ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ستر سے زیادہ سورتوں کی قرأت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳۳۲

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : " وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سورة آل عمران آية 161 ، ثُمَّ قَالَ عَلَى : قِرَاءَةِ مَنْ تَأْمُرُونِي ، أَنْ أَقْرَأَ ، فَلَقَدْ قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً ، وَلَقَدْ عَلِمَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَعْلَمُهُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَلَوْ أَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا أَعْلَمُ مِنِّي لَرَحَلْتُ إِلَيْهِ ، قَالَ شَقِيقٌ : فَجَلَسْتُ فِي حَلَقِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرُدُّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَلَا يَعِيبُهُ " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

انہوں نے (اپنے ساتھیوں) سے کہا: (اپنے قرآن چھپا رکھو) اور جو کوئی چھپا رکھے گا کوئی شے وہ لائے گا اس کو قیامت کے دن پھر کہا: تم مجھے کس شخص کی قرأت کی طرح قرآن پڑھنے کا حکم کرتے ہو میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ستر سے زیادہ کئی سورتیں پڑھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب یہ جانتے ہیں کہ میں ان سب میں زیادہ جانتا ہوں اللہ کی کتاب کو اور اگر میں جانتا کہ کوئی مجھ سے زیادہ جانتا ہے اللہ کی کتاب کو تو میں چلا جاتا اس کے پاس۔ شقیق نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے حلقوں میں بیٹھا میں نے کسی سے نہیں سنا جس نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی بات کو رد کیا ہو یا ان پر عیب کیا ہو۔

صحیح مسلم حدیث ۶۳۳۲ کا خلاصہ

یہ حدیث علم قرآن کے بارے میں ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم مجھے کس شخص کی قرأت کی طرح پڑھنے کا حکم دیتے ہو؟ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ستر سے زیادہ سورتیں پڑھیں۔ پھر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب جانتے ہیں کہ میں ان میں اللہ کی کتاب کو زیادہ جاننے والا ہوں، اور اگر مجھے کسی کے بارے میں معلوم ہوتا کہ وہ مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو میں اس کے پاس جاتا۔ شقیق نے بتایا کہ انہوں نے صحابہ کے حلقوں میں بیٹھ کر کسی کو ان کی بات رد کرتے یا عیب لگاتے نہیں سنا۔ یہ روایت ابن مسعود قرأت، ستر سورتیں، اور قرآن کا علم حاصل کرنے کے عنوان سے بہت اہم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ستر سے زیادہ سورتیں پڑھیں۔
  • علم کے دعوے کی تائید صحابہ کے خاموش اعتراف سے بھی ظاہر ہوئی۔
  • اگر کوئی زیادہ علم والا ہو تو اس کے پاس جانے کا جذبہ قابل توجہ ہے۔
  • قرآن کا علم سیکھنے کے لیے محنت اور صحبت دونوں اہم نظر آتے ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں