صحیح مسلم حدیث ۶۳۶۸ - اللہم فقہہ: دین کی سمجھ کی دعا
اللہم فقہہ: ابن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے دین کی سمجھ کی دعا
صحیح مسلم : ۶۳۶۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳۶۸
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ الْيَشْكُرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي يَزِيدَ يُحَدِّثُ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْخَلَاءَ فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا ، فَلَمَّا خَرَجَ ، قَالَ : مَنْ وَضَعَ هَذَا ؟ " فِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ ، قَالُوا : وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ ، قُلْتُ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ : اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء میں تشریف لے گئے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ليے وضو کا پانی رکھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو پوچھا: ”یہ پانی کس نے رکھا؟“ لوگوں نے کہا: یا میں نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اللہ اس کو سمجھدار کر دے دین میں۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۳۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا ذکر ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی رکھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو پوچھا کہ یہ پانی کس نے رکھا؟ بتایا گیا کہ ابن عباس نے رکھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! اسے دین میں سمجھ عطا فرما۔ اس روایت کا بنیادی موضوع دین کی سمجھ، علم کی دعا، اور چھوٹی عمر میں خدمت ہے۔ لوگ اسے اللہم فقہہ حدیث، ابن عباس کی دعا، اور دین کی سمجھ کی دعا کے نام سے تلاش کرتے ہیں۔ متن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایک سادہ سی خدمت پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت پیاری دعا دی۔ یہاں کسی اضافی فضیلت کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کے بجائے حدیث کے الفاظ ہی کافی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- چھوٹی خدمت بھی اللہ کے ہاں بڑے خیر کا سبب بن سکتی ہے۔
- دین کی سمجھ کے لیے دعا کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
- سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خدمت کے ذریعے ادب دکھایا۔
- علم اور فہم اللہ کی عطا ہیں، اس لیے ان کے لیے دعا کرنی چاہیے۔
