صحیح مسلم حدیث ۶۳۸۲ - مضبوط حلقہ تھامنے کی بشارت

مضبوط حلقہ تھامنے کی حدیث اور دین پر قائم رہنا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳۸۲

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : قَالَ قَيْسُ بْنُ عُبَادٍ : " كُنْتُ فِي حَلَقَةٍ فِيهَا سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ ، وَابْنُ عُمَرَ ، فَمَرَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ، فَقَالُوا : هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَقُمْتُ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّهُمْ قَالُوا كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، مَا كَانَ يَنْبَغِي لَهُمْ أَنْ يَقُولُوا مَا لَيْسَ لَهُمْ بِهِ عِلْمٌ ، إِنَّمَا رَأَيْتُ كَأَنَّ عَمُودًا وُضِعَ فِي رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ ، فَنُصِبَ فِيهَا وَفِي رَأْسِهَا عُرْوَةٌ ، وَفِي أَسْفَلِهَا مِنْصَفٌ ، وَالْمِنْصَفُ الْوَصِيفُ ، فَقِيلَ لِيَ : ارْقَهْ ، فَرَقِيتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَمُوتُ عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ آخِذٌ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى " .

‏‏‏‏ سیدنا قیس بن عباد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایک جماعت میں تھا جس میں سیدنا سعد بن مالک اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ اتنے میں سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نکلے۔ لوگوں نے کہا: یہ جنت والوں میں ‎سے ہیں۔ میں کھڑا ہوا اور میں نے ان سے کہا: تمہارے باب میں لوگ ایسا ایساکہتے ہیں۔ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! ان کو وہ بات نہ کہنی چاہیے جس کو وہ نہیں جاتنے میں نے خواب میں ایک ستون دیکھا جو ایک سبز باغ کے درمیان رکھا گیا۔ اس کے سر پر ایک حلقہ لگا تھا اور اس کے نیچے ایک خدمت گار کھڑا تھا۔ مجھ سے کہا گیا: اس پر چڑھو، میں چڑھا یہاں تک کہ حلقہ کو تھام لیا، پھر میں نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ وفات پائے گا اسی مضبوط حلقہ کو تھامے ہوئے۔“ (یعنی دین اسلام پر)۔

صحیح مسلم حدیث ۶۳۸۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے خواب کا مختصر بیان ہے۔ لوگ انہیں جنت والوں میں سے کہتے تھے، مگر انہوں نے صاف کہا کہ لوگوں کو ایسی بات نہیں کہنی چاہیے جس کا انہیں علم نہ ہو۔ پھر انہوں نے خواب سنایا کہ ایک سبز باغ میں ستون تھا، اس کے اوپر حلقہ تھا، اور ایک خدمت گار نیچے موجود تھا۔ انہیں ستون پر چڑھنے کو کہا گیا، وہ چڑھے اور حلقہ تھام لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ اسی مضبوط حلقہ کو تھامے ہوئے وفات پائے گا۔ یہاں مضبوط حلقہ دین اسلام پر قائم رہنے کی طرف اشارہ ہے۔ یہ حدیث عروۃ الوثقیٰ، عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ، اور اسلام پر استقامت جیسے موضوعات کے لیے بہت اہم سمجھی جاتی ہے، مگر اس کا پیغام سادہ ہے: دین کو مضبوطی سے پکڑے رکھو اور بے علم دعویٰ نہ کرو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کسی کے جنتی ہونے کا حکم اپنی طرف سے لگانا درست نہیں۔
  • مضبوط حلقہ تھامنا اسلام پر قائم رہنے کی علامت بتایا گیا۔
  • عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اپنی تعریف سن کر عاجزی اختیار کی۔
  • اچھے خواب کی تعبیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لی گئی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں