صحیح مسلم حدیث ۶۳۹۳ - نسب کا خیال اور جواب کا ادب
حسان بن ثابت کی اجازت: دفاع رسالت میں نسب کا خیال
صحیح مسلم : ۶۳۹۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳۹۳
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا يَحْيَي بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ حَسَّانُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ائْذَنْ لِي فِي أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ : كَيْفَ بِقَرَابَتِي مِنْهُ ؟ قَالَ : وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعْرَةُ مِنَ الْخَمِيرِ ، فَقَالَ حَسَّانُ : وَإِنَّ سَنَامَ الْمَجْدِ مِنْ آلِ هَاشِمٍ بَنُو بِنْتِ مَخْزُومٍ وَوَالِدُكَ الْعَبْدُ ، قَصِيدَتَهُ هَذِهِ .
عائشہ روایت:
سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اجازت دیجئے مجھے ابوسفیان کی ہجو کہنے کی (یہ ابوسفیان حارث بن عبدالمطلب کے بیٹے تھے اور اسلام سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتے تھے اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی تھے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو میرے ناتے والا ہے۔“سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت دی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان میں سے اس طرح نکال لوں گا جیسے بال خمیر میں سے نکال لیا جاتا ہے، پھر سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے یہ شعر کہا۔ «وَإِنَّ سَنَامَ الْمَجْدِ مِنْ آلِ هَاشِمٍ» «بَنُو بِنْتِ مَخْزُومٍ وَوَالِدُكَ الْعَبْدُ»۔
صحیح مسلم حدیث ۶۳۹۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوسفیان کی ہجو کی اجازت مانگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اس سے قرابت کا کیا ہوگا؟ حسان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان میں سے اس طرح نکال لیں گے جیسے بال خمیر سے نکالا جاتا ہے۔ اس روایت کا اصل پیغام یہ ہے کہ حق کا جواب دیتے وقت بھی احتیاط، سمجھ اور نسبی تعلق کا خیال رکھا گیا۔ دفاع رسالت میں زبان استعمال ہوئی، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان اور نسبت کو نقصان نہ پہنچانے کی بات بھی سامنے آئی۔ اس لیے یہ حدیث حسان بن ثابت، ابوسفیان کی ہجو، نسب قریش، اور دفاع رسالت جیسے الفاظ سے تلاش کی جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حسان رضی اللہ عنہ نے ہجو سے پہلے اجازت طلب کی۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قرابت کا خیال دلایا۔
- دفاع میں بھی احتیاط اور سمجھ ضروری ہے۔
- حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے الگ رکھیں گے۔
