صحیح مسلم حدیث ۶۴۱۶ - انصار کی اولاد اور موالی کے لیے دعا

انصار، ان کی اولاد اور موالی کے لیے نبی صلى الله عليه وسلم کی دعائے مغفرت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۱۶

حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَغْفَرَ لِلْأَنْصَارِ ، قَالَ : وَأَحْسِبُهُ ، قَالَ : وَلِذَرَارِيِّ الْأَنْصَارِ ، وَلِمَوَالِي الْأَنْصَارِ ، لَا أَشُكُّ فِيهِ .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی انصار کی بخشش کے لیے اور انصار کی اولاد اور غلاموں کے لیے۔

صحیح مسلم حدیث ۶۴۱۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے لیے مغفرت کی دعا کی۔ راوی کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی اولاد کا بھی ذکر کیا، اور انصار کے موالی کے لیے دعا کا ذکر وہ یقین سے کرتے ہیں۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع انصار کی فضیلت اور ان کے ساتھ وابستہ لوگوں کے لیے خیر کی دعا ہے۔ یہاں دعا کا دائرہ صرف اصل انصار تک محدود نہیں، بلکہ ان سے جڑی اولاد اور موالی تک بھی جاتا ہے۔ یہ بہت نرم پیغام ہے کہ نیک جماعت سے نسبت، خدمت اور تعلق کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مغفرت مانگی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے لیے مغفرت مانگی۔
  • روایت میں انصار کی اولاد اور موالی کا بھی ذکر آیا ہے۔
  • نیک لوگوں کے ساتھ وابستہ افراد کو بھی دعا میں شامل کیا گیا۔
  • مغفرت کی دعا ہر مسلمان کے لیے بڑی خیر ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں