صحیح مسلم حدیث ۶۴۶۴ - حلف اور تعاون
قریش اور انصار کے حلف کی حدیث: مدینہ میں باہمی عہد
صحیح مسلم : ۶۴۶۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۶۴
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَيْنَ قُرَيْشٍ ، وَالْأَنْصَارِ ، فِي دَارِهِ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلف کرایا قریش اور انصار میں میرے گھر میں جو مدینہ میں تھا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۴۶۴ کا خلاصہ
یہ حدیث قریش اور انصار کے حلف کے بارے میں ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ صاف لفظوں میں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور انصار کے درمیان اپنے اس گھر میں حلف کرایا جو مدینہ میں تھا۔ اس روایت میں اصل بات ایک ہی ہے: مختلف پس منظر رکھنے والے مسلمانوں کے درمیان باہمی تعلق اور عہد قائم کیا گیا۔ یہاں کسی لمبی بحث یا نئے حکم کا اضافہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ متن مختصر ہے۔ آسان الفاظ میں، یہ حدیث بتاتی ہے کہ نبوی دور میں قریش اور انصار کے درمیان ایک باقاعدہ تعلق قائم ہوا، اور یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ہوا۔ اسی وجہ سے یہ روایت مؤاخات، اسلامی بھائی چارہ، انصار و مہاجرین کا رشتہ، اور حلف فی الاسلام جیسے سرچ الفاظ سے جڑی ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قریش اور انصار کے درمیان باہمی تعلق قائم کیا گیا۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے اجتماعی رشتوں کی رہنمائی فرمائی۔
- دینی بھائی چارہ صرف بات نہیں، ایک عملی بندھن بھی ہو سکتا ہے۔
