صحیح مسلم حدیث ۶۵۰۳ - حسن صحبت میں ماں کا مقام
حسن صحبت حدیث: ماں کا مقام اور والدین کا حق
صحیح مسلم : ۶۵۰۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۰۳
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ . ح وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ : مَنْ أَبَرُّ ، وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ : أَيُّ النَّاسِ أَحَقُّ مِنِّي بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ .
ترجمہ وہی ہے جو او پر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۵۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سوال کے الفاظ کچھ اس طرح آئے ہیں کہ کون میرے حسن صحبت کا زیادہ حقدار ہے۔ جواب میں وہی ترتیب بیان ہوئی: ماں، پھر ماں، پھر ماں، پھر باپ۔ اس سے سمجھ آتا ہے کہ والدین کے حقوق صرف خرچ یا رسمی ادب تک محدود نہیں، بلکہ اچھی صحبت، نرم مزاجی، توجہ، خدمت اور دل نہ دکھانے کا نام بھی ہے۔ ماں کی فضیلت حدیث کو سمجھتے وقت یہ بات سامنے رہتی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے ماں کا ذکر تین بار فرمایا۔ پھر باپ کا حق بتایا۔ اس کے بعد قریبی رشتہ داروں کا نمبر آتا ہے، اس لیے خاندان کے قریبی لوگوں سے بھلائی بھی دین کا حصہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اچھی صحبت میں ماں کو پہلے رکھا گیا ہے۔
- باپ کے ساتھ حسن سلوک بھی ضروری ہے۔
- قریبی رشتہ داروں کے حق کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے۔
- سوال کا جواب رشتوں کی درست ترتیب سمجھاتا ہے۔
