صحیح مسلم حدیث ۶۵۰۴ - والدین کی خدمت بھی جہاد

والدین کی خدمت حدیث: فیھما فجاہد کا آسان مطلب

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۰۴

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَبِيبٌ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ ، فَقَالَ : أَحَيٌّ وَالِدَاكَ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور اجازت چاہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد پر جا نے کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے ماں باپ زندہ ہیں۔“ وہ بولا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان ہی میں جہاد کر۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۵۰۴ کا خلاصہ

یہ والدین کی خدمت حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ہر نیک کام میں اپنی ذمہ داریوں کو دیکھنا ضروری ہے۔ ایک شخص رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس جہاد کی اجازت لینے آیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے پہلے پوچھا کہ کیا تیرے ماں باپ زندہ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ انہی میں جہاد کر۔ اس جملے کا صاف مطلب یہ ہے کہ والدین کی خدمت، ان کا خیال، ان کی ضرورت اور ان کے ساتھ رہ کر نیکی کرنا بہت بڑا کام ہے۔ یہاں متن میں خاص حالت یہی ہے کہ اجازت لینے والے کے والدین زندہ تھے۔ اس لیے اس کے لیے اس وقت والدین کی خدمت کو مقدم رکھا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بڑے نیک کام سے پہلے گھر کی ذمہ داری کو بھی دیکھا جائے۔
  • زندہ والدین کی خدمت بہت اہم عمل ہے۔
  • اجازت مانگنے والے کو اس کے حال کے مطابق رہنمائی دی گئی۔
  • والدین کی خدمت میں صبر اور محنت بھی شامل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں