صحیح مسلم حدیث ۶۵۰۵ - ماں باپ کی خدمت کا حکم

ماں باپ اور جہاد حدیث: خدمت کو مقدم رکھنے کا سبق

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۰۵

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ ، قَالَ مُسْلِم : أَبُو الْعَبَّاسِ اسْمُهُ : السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ الْمَكِّيُّ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۶۵۰۵ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کی تائید کرتی ہے۔ ایک شخص نبی صلى الله عليه وسلم کے پاس آیا اور اسی طرح جہاد کے بارے میں بات ہوئی۔ جواب میں والدین کی زندگی کا پوچھا گیا اور پھر انہی کے بارے میں کوشش کا حکم دیا گیا۔ اس سے عام فہم بات سمجھ آتی ہے کہ والدین کی خدمت حدیث صرف جذباتی جملہ نہیں، بلکہ عملی راستہ ہے۔ والدین اگر زندہ ہوں اور انہیں اولاد کی ضرورت ہو تو اولاد کو ان کے حق کا خیال رکھنا چاہیے۔ متن میں جہاد کی اجازت کا سوال ہے، اس لیے جواب بھی اسی موقع کے مطابق ہے۔ ہمیں اس سے اپنی ذمہ داری پہچاننے کا سبق ملتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • والدین کے زندہ ہونے کا سوال اس معاملے میں اہم تھا۔
  • نیکی میں اپنے گھر کے حق کو نہیں بھلایا جاتا۔
  • ماں باپ کی خدمت میں محنت کرنا قابل قدر ہے۔
  • ہر شخص کو اپنے حالات کے مطابق درست عمل دیکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں