صحیح مسلم حدیث ۶۵۰۶ - والدین کی خدمت میں کوشش
والدین سے نیک سلوک: خدمت بھی عبادت کا راستہ
صحیح مسلم : ۶۵۰۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۰۶
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ . ح وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَعْمَشِ جَمِيعًا ، عَنْ حَبِيبٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۵۰۶ کا خلاصہ
یہ حدیث اسی مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے کہ والدین زندہ ہوں تو ان کے حق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آدمی جہاد کے لیے اجازت چاہتا تھا، مگر نبی صلى الله عليه وسلم نے پہلے ماں باپ کے بارے میں پوچھا۔ جب معلوم ہوا کہ وہ زندہ ہیں تو فرمایا کہ انہی میں جہاد کر۔ عام زبان میں اس کا مطلب یہ ہے کہ والدین کی خدمت، ان کے ساتھ رہنا، ان کی ضرورت پوری کرنا اور ان کے لیے محنت کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ دین میں صرف باہر کے بڑے کام نہیں، گھر کے حق بھی بہت وزن رکھتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- والدین کا حق ایک مستقل ذمہ داری ہے۔
- نیک کاموں میں ترجیح سمجھنا ضروری ہے۔
- خدمت میں محنت اور وقت دینا بھی شامل ہے۔
- دین گھر کے رشتوں کو سنوارنے کی تعلیم دیتا ہے۔
