صحیح مسلم حدیث ۶۵۰۷ - ہجرت، جہاد اور والدین کا حق
ہجرت اور جہاد کی حدیث: والدین سے نیک سلوک بھی اجر کا راستہ
صحیح مسلم : ۶۵۰۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۰۷
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ نَاعِمًا مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : " أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ أَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنَ اللَّهِ ، قَالَ : فَهَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، بَلْ كِلَاهُمَا ، قَالَ : فَتَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنَ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَارْجِعْ إِلَى وَالِدَيْكَ فَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُمَا " .
عبداللہ بن عمرو بن العاص روایت:
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا میں آپ سے بیعت کرتا ہوں ہجرت اور جہاد پر، اللہ سے اس کا ثواب چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے ماں باپ میں سے کوئی زندہ ہے۔“ وہ بولا: دونوں زندہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اللہ سے ثواب چاہتا ہے .“ وہ بولا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا . ”تو لوٹ جا اپنے ماں باپ کے پاس اور نیک سلوک کر ان سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۵۰۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے ہجرت اور جہاد پر بیعت کی بات کی اور کہا کہ وہ اللہ سے اجر چاہتا ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ کیا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے بتایا کہ دونوں زندہ ہیں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے دوبارہ پوچھا کہ کیا تم اللہ سے اجر چاہتے ہو؟ جب اس نے ہاں کہا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اپنے والدین کے پاس واپس جاؤ اور ان کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اس میں والدین سے نیک سلوک کا پیغام بہت واضح ہے۔ آدمی اجر چاہتا تھا، تو اسے گھر جا کر ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کا راستہ بتایا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ سے اجر چاہنے والے کو والدین کا حق یاد رکھنا چاہیے۔
- زندہ والدین کے ساتھ حسن سلوک ایک بڑا عمل ہے۔
- نیک نیت کام میں بھی درست ترجیح ضروری ہے۔
- والدین کے پاس واپس جانا یہاں واضح حکم کے طور پر آیا۔
