صحیح بخاری حدیث ۳۰۰۴ - والدین کی خدمت بھی جہاد ہے
والدین کی خدمت کی حدیث: ماں باپ کے حق میں کوشش
صحیح بخاری : ۳۰۰۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۰۴
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ وَكَانَ لَا يُتَّهَمُ فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَهُ فِي الْجِهَادِ ، فَقَالَ : " أَحَيٌّ وَالِدَاكَ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ " .
عبداللہ بن عمرو روایت:
ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا ”کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟“ انہوں نے کہا کہ جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر انہیں میں جہاد کرو۔ (یعنی ان کو خوش رکھنے کی کوشش کرو)۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۰۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے یہ پوچھا کہ کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہی میں جہاد کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ والدین کی خدمت، ان کا خیال رکھنا، اور انہیں خوش رکھنے کی کوشش ایک بڑی دینی ذمہ داری ہے۔ یہاں والدین کی خدمت کی حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ نیکی صرف میدان جنگ تک محدود نہیں، گھر کے اندر ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ بھی اللہ کے نزدیک اہم کام ہے۔ اس حدیث میں خاص طور پر زندہ والدین کے حق کو سامنے رکھا گیا ہے، اس لیے آدمی کو اپنے دینی جوش کے ساتھ گھر کی ذمہ داری بھی دیکھنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زندہ والدین کی خدمت کو معمولی کام نہیں سمجھنا چاہیے۔
- دینی کام کا ارادہ ہو تو گھر کی ذمہ داری بھی دیکھی جائے۔
- ماں باپ کو خوش رکھنے کی کوشش ایک بڑی نیکی ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کرنے والے کو پہلے والدین کا حق یاد دلایا۔
