صحیح بخاری حدیث ۳۰۰۳ - اپنا صدقہ واپس لینے کی ممانعت
صدقہ واپس لینے کی حدیث: دی ہوئی چیز کو دوبارہ نہ لینا
صحیح بخاری : ۳۰۰۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۰۳
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَابْتَاعَهُ أَوْ فَأَضَاعَهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَا تَشْتَرِهِ وَإِنْ بِدِرْهَمٍ ، فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " .
عمر بن خطاب روایت:
میں نے اللہ کے راستے میں ایک گھوڑا سواری کے لیے دیا، اور جسے دیا تھا وہ اسے بیچنے لگا۔ یا (آپ نے یہ فرمایا تھا کہ) اس نے اسے بالکل کمزور کر دیا تھا۔ اس لیے میرا ارادہ ہوا کہ میں اسے واپس خرید لوں، مجھے یہ خیال تھا کہ وہ شخص سستے داموں پر اسے بیچ دے گا۔ میں نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ گھوڑا تمہیں ایک درہم میں مل جائے پھر بھی اسے نہ خریدنا۔ کیونکہ اپنے ہی صدقہ کو واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے کو خود ہی چاٹتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۰۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے اللہ کے راستے میں ایک گھوڑا سواری کے لیے دیا۔ بعد میں وہ گھوڑا جس شخص کے پاس تھا، اسے بیچنے لگا یا اس نے اسے کمزور کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سوچا کہ شاید یہ گھوڑا سستے داموں مل جائے، اس لیے واپس خریدنے کا ارادہ کیا۔ مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف منع فرمایا کہ اگر ایک درہم میں بھی ملے تو اسے نہ خریدو۔ اس سے صدقہ واپس لینے کی حدیث کا اصل سبق ملتا ہے کہ اللہ کے لیے دی ہوئی چیز دوبارہ اپنے فائدے کے لیے نہیں لینی چاہیے۔ حدیث میں اس عمل کو بہت ناپسندیدہ مثال سے سمجھایا گیا، تاکہ آدمی صدقہ، ہبہ اور اللہ کی راہ میں دی ہوئی چیز کے معاملے میں دل صاف رکھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے راستے میں دی ہوئی چیز کو واپس لینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
- صدقہ سستا مل رہا ہو تب بھی اسے واپس خریدنے سے بچنا چاہیے۔
- نیکی کرتے وقت نیت اللہ کے لیے ہو، بعد میں ذاتی فائدہ نہ سوچا جائے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کو سخت ناپسند فرمایا۔
