صحیح بخاری حدیث ۲۵۸۹ - ہبہ واپس لینے کی مذمت

ہبہ واپس لینے والے کی مثال: سخت تنبیہ والی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۸۹

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ ، ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " .

ابن عباس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنا ہبہ واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے پھر چاٹ جاتا ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۲۵۸۹ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع ہبہ واپس لینا ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اپنا ہبہ واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے پھر اسے چاٹ جاتا ہے۔ یہ مثال بہت سخت ہے، اس لیے اسے معمولی بات نہیں سمجھنا چاہیے۔ جب کوئی شخص کسی کو ہدیہ یا ہبہ دے دے، تو اسے واپس لینے کی عادت اچھی نہیں۔ حدیث کا مقصد یہ ہے کہ دینے کے بعد آدمی اپنی بات پر قائم رہے اور احسان جتانے یا دل بدلنے کی وجہ سے واپس نہ لے۔ اس میں ہدیہ، وعدہ، سخاوت اور اچھے کردار کا سبق ہے۔ یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ اسلام میں دینے کا عمل عزت والا ہے، مگر دے کر واپس لینا ناپسندیدہ انداز ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دیا ہوا ہبہ واپس لینا سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے اس عمل کے لیے بہت سخت مثال بیان فرمائی۔
  • تحفہ دینے کے بعد اپنی بات پر قائم رہنا بہتر ہے۔
  • ہبہ احسان جتانے یا واپس لینے کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں