صحیح بخاری حدیث ۲۵۸۸ - ازواج سے اجازت اور عدل

بیماری میں ازواج سے اجازت لینے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۸۸

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا " لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي ، فَأَذِنَّ لَهُ ، فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلَاهُ الْأَرْضَ ، وَكَانَ بَيْنَ الْعَبَّاسِ وَبَيْنَ رَجُلٍ آخَرَ ، فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : فَذَكَرْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ ، فَقَالَ لِي : وَهَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ ؟ قُلْتُ : لَا ، قَالَ : هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ " .

عائشہ روایت:

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری بڑھی اور تکلیف شدید ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے میرے گھر میں ایام مرض گزارنے کی اجازت چاہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیویوں نے اجازت دے دی تو آپ اس طرح تشریف لائے کہ دونوں قدم زمین پر رگڑ کھا رہے تھے۔ آپ اس وقت عباس رضی اللہ عنہ اور ایک اور صاحب کے درمیان تھے۔عبیداللہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کا ذکر ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کیا۔ تو انہوں نے مجھ سے پوچھا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے جن کا نام نہیں لیا، جانتے ہو وہ کون تھے؟ میں نے کہا کہ نہیں؟ آپ نے فرمایا کہ وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۵۸۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع ازواج کے درمیان عدل اور اجازت ہے۔ جب نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی بیماری شدید ہوئی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے اجازت چاہی کہ بیماری کے دن عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر گزاریں۔ ازواج نے اجازت دے دی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم اس حال میں تشریف لائے کہ دو آدمیوں کے سہارے چل رہے تھے اور پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک شخص کا نام نہیں لیا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔ اس حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم کا عدل صاف دکھائی دیتا ہے کہ شدید بیماری میں بھی ازواج کے حق کا لحاظ رکھا گیا اور اجازت کے بعد ہی ایک گھر میں قیام فرمایا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے بیماری کے باوجود ازواج کے حق کا خیال رکھا۔
  • کسی کا حق ہو تو اجازت لینا اچھے اخلاق میں شامل ہے۔
  • شدید تکلیف میں بھی عدل کا دامن نہیں چھوڑا گیا۔
  • صحابہ کرام نے واقعہ کی تفصیل امانت کے ساتھ نقل کی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں