صحیح بخاری حدیث ۲۵۸۷ - بچوں کے درمیان عدل

بچوں کے درمیان عدل کرو: نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۸۷

حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : " أَعْطَانِي أَبِي عَطِيَّةً ، فَقَالَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ : لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي أَعْطَيْتُ ابْنِي مِنْ عَمْرَةَ بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِيَّةً ، فَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : أَعْطَيْتَ سَائِرَ وَلَدِكَ مِثْلَ هَذَا ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ ، قَالَ : فَرَجَعَ فَرَدَّ عَطِيَّتَهُ " .

نعمان بن بشیر روایت:

´ہم سے حامد بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا حصین سے، وہ عامر سے کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سنا` وہ منبر پر بیان کر رہے تھے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دیا، تو عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا (نعمان کی والدہ) نے کہا کہ جب تک آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ نہ بنائیں میں راضی نہیں ہو سکتی۔چنانچہ (حاضر خدمت ہو کر) انہوں نے عرض کیا کہ عمرہ بنت رواحہ سے اپنے بیٹے کو میں نے ایک عطیہ دیا تو انہوں نے کہا کہ پہلے میں آپ کو اس پر گواہ بنا لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اسی جیسا عطیہ تم نے اپنی تمام اولاد کو دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کو قائم رکھو۔ چنانچہ وہ واپس ہوئے اور ہدیہ واپس لے لیا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۵۸۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع بچوں کے درمیان عدل ہے۔ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو ان کے والد نے ایک عطیہ دیا۔ ان کی والدہ عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو گواہ نہ بنایا جائے۔ جب معاملہ نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے پیش ہوا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ کیا تمام اولاد کو ایسا ہی عطیہ دیا ہے؟ جواب ملا کہ نہیں۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔ پھر والد نے عطیہ واپس لے لیا۔ یہ حدیث والدین کے لیے بہت واضح رہنمائی ہے کہ محبت میں بھی عدل ضروری ہے، خاص طور پر جب بات مال یا عطیے کی ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • والدین کو عطیہ دیتے وقت تمام اولاد کے حق کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے ناانصافی پر گواہ بننے کو پسند نہیں فرمایا۔
  • اللہ سے ڈرنا گھریلو فیصلوں میں بھی ضروری ہے۔
  • مالی معاملے میں عدل خاندان کے سکون کے لیے بہتر ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں