صحیح بخاری حدیث ۲۵۸۶ - اولاد میں انصاف
اولاد میں انصاف اور ہبہ کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۵۸۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۸۶
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أنهما حدثاه ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، " أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا ، فَقَالَ : أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَارْجِعْهُ " .
نعمان بن بشیر روایت:
´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ابن شہاب سے، وہ حمید بن عبدالرحمٰن اور محمد بن نعمان بن بشیر سے اور ان سے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے کہا` ان کے والد انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام بطور ہبہ دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کیا ایسا ہی غلام اپنے دوسرے لڑکوں کو بھی دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں، تو آپ نے فرمایا کہ پھر (ان سے بھی) واپس لے لے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۵۸۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع اولاد میں انصاف ہے۔ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے والد انہیں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس لائے اور بتایا کہ انہوں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہبہ کیا ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ کیا تم نے اپنے دوسرے بچوں کو بھی اسی طرح دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں۔ اس پر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ پھر اسے واپس لے لو۔ اس حدیث میں بات بہت صاف ہے کہ والدین کو عطیہ یا ہبہ دیتے وقت اولاد کے درمیان عدل کا خیال رکھنا چاہیے۔ کسی ایک بچے کو خاص دینا اور باقی کو چھوڑ دینا دلوں میں فرق ڈال سکتا ہے۔ حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ گھر کے مالی فیصلوں میں انصاف، صاف نیت اور برابر برتاؤ بہت ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اولاد کو عطیہ دیتے وقت انصاف کا خیال رکھنا چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے ایک بچے کو خاص ہبہ دینے پر سوال فرمایا۔
- ناانصافی والے ہبہ کو واپس لینے کا حکم دیا گیا۔
- والدین کے فیصلوں سے بچوں کے دل متاثر ہو سکتے ہیں۔
