صحیح بخاری حدیث ۴۴۴۲ - مرض وفات اور نصیحت

مرض وفات میں نبی صلى الله عليه وسلم کی نصیحت اور نماز

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۴۲

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي ، فَأَذِنَّ لَهُ ، فَخَرَجَ وَهُوَ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلَاهُ فِي الْأَرْضِ بَيْنَ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَبَيْنَ رَجُلٍ آخَرَ ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللَّهِ بِالَّذِي قَالَتْ عَائِشَةُ ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ : هَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الْآخَرُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لَا ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ بَيْتِي وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ ، قَالَ : " هَرِيقُوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَعْهَدُ إِلَى النَّاسِ " ، فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ طَفِقْنَا نَصُبُّ عَلَيْهِ مِنْ تِلْكَ الْقِرَبِ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا بِيَدِهِ أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ ، قَالَتْ : ثُمَّ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ ، فَصَلَّى بِهِمْ وَخَطَبَهُمْ .

عائشہ روایت:

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اٹھنا بیٹھنا دشوار ہو گیا اور آپ کے مرض نے شدت اختیار کر لی تو تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے آپ نے میرے گھر میں ایام مرض گزارنے کے لیے اجازت مانگی۔ سب نے جب اجازت دے دی تو آپ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکلے، آپ دو آدمیوں کا سہارا لیے ہوئے تھے اور آپ کے پاؤں زمین سے گھسٹ رہے تھے۔ جن دو صحابہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سہارا لیے ہوئے تھے، ان میں ایک عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تھے اور ایک اور صاحب۔عبیداللہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت کی خبر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دی تو انہوں نے بتلایا، معلوم ہے وہ دوسرے صاحب جن کا نام عائشہ رضی اللہ عنہا نے نہیں لیا، کون ہیں؟ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا مجھے تو نہیں معلوم ہے۔ انہوں نے بتلایا کہ وہ علی رضی اللہ عنہ تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے گھر میں آ گئے اور تکلیف بہت بڑھ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سات مشکیزے پانی کے بھر کر لاؤ اور مجھ پر ڈال دو، ممکن ہے اس طرح میں لوگوں کو کچھ نصیحت کرنے کے قابل ہو جاؤں۔چنانچہ ہم نے آپ کو آپ کی زوجہ مطہرہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ایک لگن میں بٹھایا اور انہیں مشکیزوں سے آپ پر پانی دھارنے لگے۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے اشارہ سے روکا کہ بس ہو چکا، بیان کیا کہ پھر آپ لوگوں کے مجمع میں گئے اور نماز پڑھائی اور لوگوں کو خطاب کیا۔

صحیح بخاری حدیث ۴۴۴۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع مرض وفات، ازواج مطہرات کی اجازت اور امت کو نصیحت ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی صلى الله عليه وسلم کا مرض شدید ہوا اور اٹھنا بیٹھنا دشوار ہو گیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے ازواج مطہرات سے اجازت لی کہ بیماری کے دن عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر گزاریں۔ اجازت کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم دو آدمیوں کے سہارے نکلے، جن میں عباس رضی اللہ عنہ اور علی رضی اللہ عنہ تھے۔ جب تکلیف بڑھی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے پانی ڈالنے کا حکم دیا تاکہ لوگوں کو نصیحت فرما سکیں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم لوگوں کے پاس گئے، نماز پڑھائی اور خطاب فرمایا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے ازواج مطہرات سے اجازت لے کر عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر قیام کیا۔
  • شدید بیماری میں بھی آپ صلى الله عليه وسلم امت کو نصیحت فرمانا چاہتے تھے۔
  • صحابہ رضی اللہ عنہم نے کمزوری کے وقت نبی صلى الله عليه وسلم کو سہارا دیا۔
  • آپ صلى الله عليه وسلم نے تکلیف کے باوجود نماز اور خطاب کا اہتمام فرمایا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں