صحیح بخاری حدیث ۴۴۴۳ - قبروں سے متعلق تنبیہ
قبروں کو سجدہ گاہ بنانے سے بچنے کی نبوی تنبیہ
صحیح بخاری : ۴۴۴۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۴۳
وأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، قَالَا : لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ ، فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ وَهُوَ كَذَلِكَ يَقُولُ : " لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا " .
´اور مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` شدت مرض کے دنوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر کھینچ کر باربار اپنے چہرے پر ڈالتے تھے، پھر جب دم گھٹنے لگتا تو چہرے سے ہٹا دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی شدت کے عالم میں فرماتے تھے، یہود و نصاریٰ اللہ کی رحمت سے دور ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اپنی امت کو) ان کا عمل اختیار کرنے سے بچتے رہنے کی تاکید فرما رہے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۴۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع توحید اور قبروں کے بارے میں تنبیہ ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم پر مرض کی شدت ہوئی تو آپ صلى الله عليه وسلم اپنی چادر چہرے پر ڈالتے، پھر جب سانس میں تنگی ہوتی تو چہرے سے ہٹا دیتے۔ اسی حالت میں آپ صلى الله عليه وسلم فرما رہے تھے کہ یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ روایت کے آخر میں بتایا گیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم اپنی امت کو ان کے عمل سے خبردار فرما رہے تھے۔ اس حدیث کا اصل پیغام عبادت کو صرف اللہ کے لیے خالص رکھنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے آخری بیماری میں بھی امت کو شرک کے راستوں سے خبردار کیا۔
- قبروں کو سجدہ گاہ بنانا پچھلی امتوں کے غلط عمل کے طور پر بیان ہوا۔
- شدید تکلیف میں بھی نبی صلى الله عليه وسلم نے توحید کی حفاظت کی نصیحت فرمائی۔
- حدیث میں تنبیہ کا مقصد امت کو اسی عمل سے بچانا بتایا گیا ہے۔
