صحیح بخاری حدیث ۲۶۲۲ - بری مثال سے بچنے کی تعلیم
ہدیہ واپس لینے کی حدیث اور بری مثال سے بچنے کا سبق
صحیح بخاری : ۲۶۲۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۲۲
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ الَّذِي يَعُودُ فِي هِبَتِهِ ، كَالْكَلْبِ يَرْجِعُ فِي قَيْئِهِ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہم مسلمانوں کو بری مثال نہ اختیار کرنی چاہئے۔ اس شخص کی سی جو اپنا دیا ہوا ہدیہ واپس لے لے، وہ اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے خود چاٹتا ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۶۲۲ کا خلاصہ
اس روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم مسلمانوں کو بری مثال اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی مثال بیان فرمائی جو اپنا دیا ہوا ہدیہ واپس لیتا ہے۔ اسے اس کتے سے تشبیہ دی گئی جو اپنی قے خود چاٹتا ہے۔ یہ انداز بتاتا ہے کہ ہبہ واپس لینا معمولی بات نہیں، بلکہ اخلاق کے خلاف کام ہے۔ ہدیہ دینے کا مقصد محبت، خیر خواہی اور دل کی خوشی ہوتا ہے۔ جب وہی ہدیہ واپس لیا جائے تو اس میں تنگ دلی اور احسان جتانے کا رنگ آ سکتا ہے۔ اس لیے ہدیہ واپس لینے کی حدیث ہمیں صاف سکھاتی ہے کہ تحفہ دے کر واپس نہ مانگا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان کو بری مثال سے بچنا چاہیے۔
- اپنا دیا ہوا ہدیہ واپس لینا اچھا اخلاق نہیں ہے۔
- تحفہ دینے کے بعد اسے دل سے چھوڑ دینا چاہیے۔
