صحیح بخاری حدیث ۲۶۲۱ - ہدیہ واپس لینے کی سخت ممانعت

ہدیہ واپس لینے کی حدیث: دیا ہوا تحفہ واپس نہ لیں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۲۱

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، وَشُعْبَةُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ ، كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ " .

عبداللہ بن عباس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنا دیا ہوا ہدیہ واپس لینے والا ایسا ہے جیسے اپنی کی ہوئی قے کو چاٹنے والا۔“

صحیح بخاری حدیث ۲۶۲۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع ہبہ یعنی ہدیہ دینا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سخت مثال دے کر سمجھایا کہ جو شخص اپنا دیا ہوا ہدیہ واپس لیتا ہے، وہ اس شخص کی طرح ہے جو اپنی قے کو چاٹتا ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہدیہ واپس لینے کی حدیث میں ہمیں اپنی سخاوت، وعدے اور اخلاق کا خیال رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ جب کوئی چیز دل سے کسی کو دے دی جائے تو پھر اسے واپس لینے کی سوچ دل میں نہیں رکھنی چاہیے۔ یہ بات خاص طور پر تحفہ واپس لینے، ہبہ واپس لینے اور دیا ہوا مال واپس لینے کے معاملے میں ایک صاف اخلاقی رہنمائی دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دیا ہوا ہدیہ واپس لینا سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔
  • تحفہ دینے کے بعد دل کو واپس لینے کے خیال سے بچانا چاہیے۔
  • مسلمان کو اپنے احسان اور وعدے کو قائم رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں