صحیح بخاری حدیث ۲۶۳۶ - اپنا صدقہ واپس نہ لو
صدقہ واپس نہ لینے کی حدیث: دیا ہوا مال دوبارہ نہ لو
صحیح بخاری : ۲۶۳۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۳۶
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكًا يَسْأَلُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللهِ ، فَرَأَيْتُهُ يُبَاعُ ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَا تَشْتَرِهِ ، وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ " .
زید بن اسلم روایت:
میں نے اپنے باپ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے ایک گھوڑا اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے ایک شخص کو دے دیا تھا، پھر میں نے دیکھا کہ وہ اسے بیچ رہا ہے۔ اس لیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اسے واپس میں ہی خرید لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس گھوڑے کو نہ خرید۔ اپنا دیا ہوا صدقہ واپس نہ لو۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۶۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک گھوڑا اللہ کے راستے میں ایک شخص کو دے دیا تھا۔ بعد میں دیکھا کہ وہ گھوڑا بیچا جا رہا ہے، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا میں اسے واپس خرید لوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے نہ خریدو اور اپنا دیا ہوا صدقہ واپس نہ لو۔ یہ صدقہ واپس نہ لینے کی حدیث بہت صاف پیغام دیتی ہے۔ جب کوئی چیز اللہ کے لیے دی جائے تو پھر اسے دوبارہ اپنے پاس لانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اس میں نیکی کو مکمل رکھنے، دل کو لالچ سے بچانے اور دی ہوئی چیز کو چھوڑ دینے کی تربیت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے لیے دیا ہوا صدقہ واپس نہیں لینا چاہیے۔
- دیا ہوا مال دوبارہ خریدنے کی خواہش سے بچنا چاہیے۔
- نیکی میں دل کی صفائی اور ثابت قدمی مطلوب ہے۔
