صحیح بخاری حدیث ۲۶۲۰ - والدہ سے صلہ رحمی

والدہ سے صلہ رحمی: غیر مسلم ماں کے ساتھ حسن سلوک کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۲۰

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَتْ : " قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : وَهِيَ رَاغِبَةٌ ، أَفَأَصِلُ أُمِّي ؟ قَالَ : نَعَمْ ، صِلِي أُمَّكِ " .

اسماء بنت ابی بکر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں میری والدہ (قتیلہ بنت عبدالعزیٰ) جو مشرکہ تھیں، میرے یہاں آئیں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، میں نے یہ بھی کہا کہ وہ (مجھ سے ملاقات کی) بہت خواہشمند ہیں، تو کیا میں اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کر۔

صحیح بخاری حدیث ۲۶۲۰ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع والدہ سے صلہ رحمی اور حسن سلوک ہے۔ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کی والدہ، جو اس وقت مشرکہ تھیں، ان کے پاس آئیں۔ اسماء رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے پوچھا کہ میری والدہ مجھ سے ملاقات کی خواہش رکھتی ہیں، کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ہاں، اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔ اس حدیث میں بات بالکل صاف ہے: ماں کے ساتھ اچھا تعلق رکھا جائے، جب وہ ملنے آئے اور تعلق چاہے۔ متن میں یہی خاص صورت بیان ہوئی ہے، اس لیے اسی پر توجہ رکھنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم دیا گیا۔
  • دین کے فرق کے باوجود ماں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جا سکتا ہے۔
  • مسئلہ سمجھ نہ آئے تو اہل علم سے پوچھنا چاہیے۔
  • رشتہ داری کے حق کو آسانی سے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں