صحیح بخاری حدیث ۳۰۰۲ - صدقہ واپس نہ لینے کی حدیث

صدقہ واپس نہ لینے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۰۲

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَجَدَهُ يُبَاعُ فَأَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَهُ ، فَسَأَل رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَا تَبْتَعْهُ ، وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ کے راستے میں سواری کے لیے دے دیا تھا، پھر انہوں نے دیکھا کہ وہی گھوڑا فروخت ہو رہا ہے۔ انہوں نے چاہا کہ اسے خرید لیں۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب تم اسے نہ خریدو، اور اپنے صدقہ کو واپس نہ پھیرو۔

صحیح بخاری حدیث ۳۰۰۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں صدقہ اور اللہ کے راستے میں دی ہوئی چیز کے بارے میں ایک صاف حکم بیان ہوا ہے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ کے راستے میں سواری کے لیے دیا تھا۔ بعد میں انہوں نے وہی گھوڑا فروخت ہوتے دیکھا اور اسے خریدنا چاہا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے نہ خریدو اور اپنے صدقہ کو واپس نہ پھیرو۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ اللہ کے لیے دی ہوئی چیز کو دوبارہ اپنے پاس لانے کی کوشش نہ کی جائے۔ اس میں صدقہ واپس نہ لینا، اللہ کے راستے میں دینا، گھوڑا صدقہ، اور صدقہ کی حدیث جیسے اہم الفاظ آتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کے راستے میں دی ہوئی چیز کو واپس لینے سے منع کیا گیا ہے۔
  • عمر رضی اللہ عنہ نے خریدنے سے پہلے نبی صلى الله عليه وسلم سے پوچھا۔
  • صدقہ دینے کے بعد دل کو واپس پلٹانے سے بچانا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں