صحیح مسلم حدیث ۶۵۱۳ - باپ کے دوستوں سے نیکی
باپ کے دوستوں سے حسن سلوک: بڑی نیکی کا خوبصورت عمل
صحیح مسلم : ۶۵۱۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۱۳
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ لَقِيَهُ بِطَرِيقِ مَكَّةَ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ وَحَمَلَهُ عَلَى حِمَارٍ كَانَ يَرْكَبُهُ وَأَعْطَاهُ عِمَامَةً ، كَانَتْ عَلَى رَأْسِهِ ، فَقَالَ ابْنُ دِينَارٍ : فَقُلْنَا لَهُ : أَصْلَحَكَ اللَّهُ إِنَّهُمُ الْأَعْرَابُ ، وَإِنَّهُمْ يَرْضَوْنَ بِالْيَسِيرِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنَّ أَبَا هَذَا كَانَ وُدًّا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْوَلَدِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک گنوار ملا مکہ کی راہ میں، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کو سلام کیا اور جس گدھے پر خود سوار ہوتے تھے اس پر سوار کیا اور اپنے سر کا عمامہ اس کو دیا۔ عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ نے کہا: اللہ تم سے نیکی کرے گنوار تھوڑے میں خوش ہو جاتے ہیں (اس کو اس قدر دینا کیا ضروری تھا) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اس کا باپ دوست تھا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (میرے باپ) کا اور میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”بڑی نیکی یہ ہے کہ لڑکا اپنے باپ کے دوستوں سے اچھا سلوک کرے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۵۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل بہت آسان انداز میں والد کے دوستوں کا حق سمجھاتا ہے۔ مکہ کے راستے میں ایک دیہاتی ملا۔ انہوں نے اسے سلام کیا، اپنے گدھے پر سوار کیا اور اپنا عمامہ بھی دے دیا۔ ساتھیوں نے کہا کہ دیہاتی لوگ تھوڑے پر خوش ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس کے باپ کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دوستی تھی، اور میں نے نبی صلى الله عليه وسلم سے سنا ہے کہ بڑی نیکی یہ ہے کہ بیٹا اپنے باپ کے دوستوں سے اچھا سلوک کرے۔ یہاں باپ کے دوستوں سے حسن سلوک صرف بات نہیں، بلکہ عملی اکرام کی صورت میں دکھایا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- والد کے دوستوں سے اچھا سلوک بھی نیکی ہے۔
- ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حدیث کو عمل سے دکھایا۔
- کسی کو عزت دینا کبھی معمولی چیز سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے۔
- والدین کے تعلقات کا احترام ان کے بعد بھی باقی رہ سکتا ہے۔
