صحیح مسلم حدیث ۶۵۱۴ - والد کے دوست کا حق
والد کے دوستوں کا حق حدیث: باپ کے تعلقات کی قدر
صحیح مسلم : ۶۵۱۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۱۴
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَبَرُّ الْبِرِّ أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ وُدَّ أَبِيهِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑی نیکی یہ ہے کہ لڑکا اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ احسان کرے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۵۱۴ کا خلاصہ
یہ مختصر حدیث باپ کے دوستوں سے حسن سلوک کا صاف اصول بیان کرتی ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ احسان کرے۔ اس میں والدین کے حقوق کا ایک نرم مگر اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ عموماً لوگ والدین کی خدمت کو ان کی زندگی تک سمجھتے ہیں، مگر اس روایت میں باپ کے تعلقات کی عزت کو بھی نیکی کہا گیا ہے۔ اگر والد کے کسی دوست یا تعلق والے سے ملاقات ہو تو اچھا برتاؤ، عزت، سلام، مدد یا مناسب خیال رکھنا اس حدیث کے مضمون سے جڑا ہوا عمل ہے۔ یہ بات خاندان اور پرانے رشتوں کو جوڑے رکھتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- باپ کے دوستوں کے ساتھ احسان بڑی نیکی ہے۔
- والد کے تعلقات کی عزت اولاد کے اخلاق کو سنوارتی ہے۔
- نیکی صرف والدین تک محدود نہیں، ان کے احباب تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
- اچھا برتاؤ رشتوں کی یاد کو زندہ رکھتا ہے۔
