صحیح مسلم حدیث ۶۵۲۴ - صلہ رحمی اور رزق
صلہ رحمی اور رزق: ناتا ملانے کی آسان نصیحت
صحیح مسلم : ۶۵۲۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۲۴
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ ، وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چاہے اپنی روزی بڑھنا اپنی عمر دراز ہونا تو ناتا ملائے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۵۲۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں بھی صلہ رحمی کا پیغام بہت آسان الفاظ میں آیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چاہے اس کی روزی بڑھے اور عمر دراز ہو، وہ ناتا ملائے۔ اس روایت میں اصل توجہ رشتہ داروں سے تعلق قائم رکھنے پر ہے۔ انسان اکثر رزق میں کشادگی چاہتا ہے، مگر حدیث اسے ایک اخلاقی عمل کی طرف بلاتی ہے: اپنے ناتے کو ملانا۔ صلہ رحمی سے رزق میں برکت کا مطلب یہاں اسی نص کے مطابق سمجھنا چاہیے کہ ناتا ملانا خیر کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ اس لیے خاندانی رشتوں کو سنبھالنا صرف سماجی بات نہیں، دین کی واضح نصیحت بھی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ناتا ملانا خیر کا کام ہے۔
- حدیث میں روزی بڑھنے کی خواہش کے ساتھ صلہ رحمی کی ترغیب دی گئی ہے۔
- خاندانی تعلقات کو برقرار رکھنا مسلمان کے اچھے اخلاق میں شامل ہے۔
