صحیح مسلم حدیث ۶۵۵۴ - مخرفۃ الجنۃ یعنی جنت کا پھل

مخرفۃ الجنۃ کیا ہے؟ بیمار کی عیادت اور جنت کا پھل

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۵۴

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ يَزِيدَ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ أَبُو قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَمَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : جَنَاهَا .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۶۵۵۴ کا خلاصہ

اس روایت میں بیمار کی عیادت کی فضیلت کے ساتھ ایک وضاحت بھی آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بیمار کی عیادت کرے، وہ مخرفۃ الجنۃ میں رہتا ہے۔ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! مخرفۃ الجنۃ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت کا پھل۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مریض کی عیادت کا عمل اللہ کے ہاں بہت قدر والا ہے۔ حدیث میں جنت کے پھل کی تعبیر عیادت کرنے والے کے لیے خوشی اور امید کا پیغام دیتی ہے۔ بیمار کے پاس جانا، اس کا حال لینا اور اس کے دکھ میں شریک ہونا بظاہر چھوٹا کام لگ سکتا ہے، مگر حدیث اسے بہت بڑا بنا دیتی ہے۔ مخرفۃ الجنۃ حدیث کو سمجھنے کا آسان مطلب یہی ہے کہ عیادت کرنے والا ایک با برکت نیکی میں ہوتا ہے، جب تک وہ واپس نہ آ جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مخرفۃ الجنۃ کی وضاحت جنت کے پھل کے طور پر آئی ہے۔
  • بیمار کی عیادت کو بڑی فضیلت والا عمل بتایا گیا ہے۔
  • مریض کا حال پوچھنا اللہ کے ہاں قیمتی نیکی ہے۔
  • حدیث عیادت کے عمل کو امید اور اجر سے جوڑتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں