صحیح مسلم حدیث ۶۵۵۳ - مسلمان بھائی کی عیادت کی فضیلت
مسلمان بھائی کی عیادت کی حدیث: مریض کے پاس جانا نیکی ہے
صحیح مسلم : ۶۵۵۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۵۳
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۵۵۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں خاص طور پر یہ الفاظ آئے ہیں کہ مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ واپس آنے تک جنت کے باغ میں رہتا ہے۔ اس سے عیادت مریض کی فضیلت کے ساتھ مسلمان بھائی چارے کی قدر بھی سامنے آتی ہے۔ بیمار آدمی کمزور ہوتا ہے، دل بھی گھبرا سکتا ہے، اور اسے اپنوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے وقت میں اس کے پاس جانا، اس کا حال پوچھنا، نرمی سے بات کرنا اور اسے اطمینان دینا بہت خوب صورت عمل ہے۔ حدیث اس عمل کو جنت کے باغ سے جوڑ کر اس کی اہمیت بتاتی ہے۔ اس میں کوئی لمبی شرط نہیں لگائی گئی، بس عیادت کا عمل بیان ہوا ہے۔ اس لیے بیمار کی عیادت کی حدیث ہمیں دعوت دیتی ہے کہ جب کسی مسلمان بھائی کی بیماری کا علم ہو تو اس کی خبر گیری کو معمولی نہ سمجھیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان بھائی کی عیادت کو جنت کے باغ سے جوڑا گیا ہے۔
- بیمار کے پاس جانا اس کی دلجوئی کا ذریعہ بنتا ہے۔
- عیادت صرف رسم نہیں، دینی نیکی ہے۔
- مسلمان بھائی کی تکلیف میں اس کے ساتھ ہونا چاہیے۔
