صحیح مسلم حدیث ۶۵۵۲ - بیمار کی عیادت اور جنت کا باغ
بیمار کی عیادت: واپس آنے تک جنت کے باغ میں رہنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۵۵۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۵۲
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۵۵۲ کا خلاصہ
یہ روایت بھی بیمار کی عیادت کی اسی فضیلت کو بیان کرتی ہے کہ جو شخص کسی مریض کی عیادت کرے، وہ واپس آنے تک جنت کے باغ میں رہتا ہے۔ یہاں لفظوں میں اختصار ہے، مگر عمل بہت واضح ہے۔ بیمار کی خبر لینا، اس کے پاس جانا اور حال پوچھنا ایسا کام ہے جسے حدیث نے بڑی قدر کے ساتھ ذکر کیا۔ آج کے دور میں لوگ اکثر مصروفیت کی وجہ سے مریض سے رابطہ نہیں کر پاتے، مگر یہ حدیث یاد دلاتی ہے کہ ایک ملاقات بھی نیکی بن سکتی ہے۔ بیمار کی عیادت حدیث میں ہمیں یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ مسلمان معاشرے میں تکلیف کے وقت ایک دوسرے سے کٹ کر نہیں رہتے۔ مریض کو احساس ہوتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں، اور عیادت کرنے والا ایک نیک عمل میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ واپس آ جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مریض کی عیادت نیکی کا واضح عمل ہے۔
- حدیث کے مطابق عیادت کرنے والا واپسی تک جنت کے باغ میں ہے۔
- بیمار کو یاد رکھنا مسلمان بھائی چارے کا حصہ ہے۔
- مصروفیت کے باوجود مریض کا حال پوچھنا اہم ہے۔
